مرزا اسد اللہ خان غالب (1797-1869)

ہیں اور بھی دنیا میں سخنور بہت اچھے
کہتے ہیں کہ غالب کا ہے انداز بیاں اور

آتے ہیں غیب سے یہ مضامیں خیا ل میں

غالب صریر خامہ نوائے سروش ہے

150px-Mirza_Ghalib

مرزا غالب اردو زبان کے سب سے بڑے شاعر سمجھے جاتے ہیں۔ ان کی عظمت کا راز صرف ان کی شاعری کے حسن اور بیان کی خوبی ہی میں نہیں ہے۔ ان کاا صل کمال یہ ہے کہ وہ ز ندگی کے حقائق اور انسانی نفسیات کو گہرائی میں جاکر سمجھتے تھے اور بڑی سادگی سے عام لوگوں کے لیے بیان کردیتے تھے۔غالب جس پر آشوب دور میں پیدا ہوئے اس میں انہوں نے مسلمانوں کی ایک عظیم سلطنت کو برباد ہوتے ہوئے اور باہر سے آئی ہوئی انگریز قوم کو ملک کے اقتدار پر چھاتے ہوئے دیکھا۔غالباً ً یہی وہ پس منظر ہے جس نے ان کی نظر میں گہرائی اور فکر میں وسعت پیدا کی۔

مرزا غالب کا نام اسد اللہ بیگ خاں تھا۔ باپ کا نام عبداللہ بیگ تھا ۔ آپ دسمبر 1797ء میں آگرہ میں پیدا ہوئے۔ غالب بچپن ہی میں یتیم ہو گئے تھے ان کی پرورش ان کے چچا مرزا نصر اللہ بیگ نے کی لیکن آٹھ سال کی عمر میں ان کے چچا بھی فوت ہو گئے۔ نواب احمد بخش خاں نے مرزا کے خاندان کا انگریزوں سے وظیفہ مقرر کرا دیا۔ 1810ءمیں تیرہ سال کی عمر میں ان کی شادی نواب احمد بخش کے چھوٹے بھائی مرزا الہی بخش خاں معروف کی بیٹی امراءبیگم سے ہو گئی شادی کے بعد انہوں نے اپنے آبائی وطن کو خیر باد کہہ کر دہلی میں مستقل سکونت اختیار کر لی۔

شادی کے بعد مرزا کے اخراجات بڑھ گئے اور مقروض ہو گئے ۔ اس دوران میں انہیں مالی مشکلات کا سامنا کرنا پڑا ور قرض کا بوجھ مزید بڑھنے لگا۔ آخر مالی پریشانیوں سے مجبور ہو کر غالب نے قلعہ کی ملازمت اختیار کر لی اور 1850ءمیں بہادر شاہ ظفر نے مرزا غالب کو نجم الدولہ دبیر الملک نظام جنگ کا خطاب عطا فرمایا ، اور خاندان تیموری کی تاریخ لکھنے پر مامور کر دیا اور 50روپے ماہور مرزا کا وظیفہ مقرر ہوا۔

1855 میں سرسید نے اکبر اعظم کے زمانے کی مشہور تصنیف ’’آئین اکبری‘‘ کی تصحیح کرکے اسے دوبارہ شائع کیا۔ مرزا غالب نے اس پر فارسی میں ایک منظوم تقریظ (تعارف) لکھا ۔ اس میں انہو ں نے سر سید کو سمجھایا کہ ’’مردہ پرورن مبارک کارِنیست‘‘ یعنی مردہ پرستی اچھا شغل نہیں بلکہ انہیں انگریزوں سے یہ سبق سیکھنا چاہیے کہ وہ کس طرح فطرت کی طاقتوں کو مسخرکرکے اپنے اجداد سے کہیں آگے نکل گئے ہیں۔ انہوں نے اس پوری تقریظ میں انگریزوں کی ثقافت کی تعریف میں کچھ نہیں کہا بلکہ ان کی سائنسی دریافتوں کی طرف اشارہ کرتے ہوئے مختلف مثالوں سے یہ بتایا ہے کہ یہی ان کی ترقی کا راز ہے۔ غالب نے ایک ایسے پہلو سے مسلمانوں کی رہنمائی کی تھی ، جو اگر مسلمان اختیار کرلیتے تو آج دنیا کی عظیم ترین قوتوں میں ان کا شمار ہوتا۔مگر بدقسمتی سے لوگوں نے شاعری میں ان کے کمالات اور نثر پر ان کے احسانات کو تو لیا ،مگر قومی معاملات میں ان کی رہنمائی کو نظر انداز کردیا۔

دہلی کے جن نامور لوگوں کی تقریظیں آثارالصنادید کے آخر میں درج ہیں انہوں نے آئینِ اکبری پر بھی نظم یا نثر میں تقریظیں لکھی تھیں مگر آئین کے آخر میں صرف مولانا صہبائی کی تقریظ چھپی ہے ۔ مرزا غالب کی تقریظ جو ایک چھوٹی سی فارسی مثنوی ہے وہ کلیاتِ غالب میں موجود ہے مگر آئینِ اکبری میں سرسید نے اس کو قصدا ً نہیں چھپوایا۔ اس تقریظ میں مرزا نے یہ ظاہر کیا ہے کہ ابوالفضل کی کتاب اس قابل نہ تھی کہ اس کی تصحیح میں اس قدر کوشش کی جائے۔

سر سید کہتے تھے کہ :[2]

” جب میں مرادآباد میں تھا ، اس وقت مرزا صاحب، نواب یوسف علی خاں مرحوم سے ملنے کو رام پور گئے تھے۔ ان کے جانے کی تو مجھے خبر نہیں ہوئی مگر جب دلی کو واپس جاتے تھے ، میں نے سنا کہ وہ مرادآباد میں سرائے میں آکر ٹھہرے ہیں ۔ میں فورا سرائے میں پہنچا اور مرزا صاحب کو مع اسباب اور تمام ہم راہیوں کے اپنے مکان پر لے آیا۔”

ظاہرا جب سے کہ سر سید نے تقریظ کے چھاپنے سے انکار کیا تھا وہ مرزا سے اور مرزا ان سے نہیں ملے تھے اور دونوں کو حجاب دامن گیر ہو گیا تھا اور اسی لئے مرزا نے مرادآباد میں آنے کی ان کو اطلاع نہیں دی تھی۔ الغرض جب مرزا سرائے سے سرسید کے مکان پر پہنچے اور پالکی سے اُترے تو ایک بوتل ان کے ہاتھ میں تھی انہوں نے اس کو مکان میں لا کر ایسے موقع پر رکھ دیا جہاں ہر ایک آتے جاتے کی نگاہ پڑتی تھی ۔ سر سید نے کسی وقت اس کو وہاں سے اُٹھا کر اسباب کی کوٹھڑی میں رکھ دیا ۔ مرزا نے جب بوتل کو وہاں نہ پایا توبہت گھبرائے ، سرسید نے کہا:

” آپ خاطر جمع رکھئے ، میں نے اس کو بہت احتیاط سے رکھ دیا ہے۔”

مرزا صاحب نے کہا، ” بھئی مجھے دکھا دو ، تم نے کہاں رکھی ہے؟” انہوں نے کوٹھڑی میں لے جا کر بوتل دکھا دی ۔ آپ نے اپنے ہاتھ سے بوتل اُٹھا کر دیکھی اور مسکرا کر کہنے لگے کہ، ” بھئی ! اس میں تو کچھ خیانت ہوئی ہے۔ سچ بتاؤ، کس نے پی ہے ، شاید اسی لئے تم نے کوٹھڑی میں لا کر رکھی تھی، حافظ نے سچ کہا ہے:

واعظاں کایں جلوہ در محراب و منبر میکنند چوں بخلوت میروند آں کارِ دیگر میکنند

سرسید ہنس کے چُپ ہورہے اور اس طرح وہ رکاوٹ جو کئی برس سے چلی آتی تھی ، رفع ہوگئی ، میرزا دو ایک دن وہاں ٹھہر کر دلی چلے آئے

سرسید کے زہن میں یہ نکتہ بیٹھ گیا اور اس کی باقی ماندہ زندگی مردہ پروردن کے کار نامہ مبارک سے بلند ہوکر مردہ قوم میں زندگی کا تازہ خون دوڑانے کی مبارک و مسعود کو ششوں میں بسر ہوئی.

غالب کے بارے میں عبادت بریلوی لکھتے ہیں، ”غالب زبان اور لہجے کے چابک دست فنکار ہیں۔ اردو روزمرہ اور محاورے کو اس طرح بیان کرتے ہیں کہ اس کی سادگی دل میں اتر جاتی ہے۔“

عبدالرحمن بجنوری لکھتے ہیں کہ، ”ہندوستان کی الہامی کتابیں دو ہیں ”وید مقدس“ اور ”دیوان غالب“ ۔“

اردو شاعری میں مرزا غالب کی حیثیت ایک ررخشاں ستارے کی سی ہے۔ انہوں نے اردو شاعری میں ایک نئی روح پھونک دی ۔ اسے نئے نئے موضوعات بخشے اور اس میں ایک انقلابی لہر دوڑا دی۔ ان کی شاعری میں فلسفیانہ خیالات جا بجا ملتے ہیں۔ غالب ایک فلسفی ذہن کے مالک تھے۔ انہوں نے زندگی کو اپنے طور پر سمجھنے کی بھر پور کوشش کی اور ان کے تخیل کی بلندی اور شوخی فکرکا راز اس میں ہے کہ وہ انسانی زندگی کے نشیب و فراز کوشدت سے محسوس کرتے ہیں۔
غالب انسانی زندگی کے مختلف پہلوئوں کا گہرا شعور رکھتے ہیں ۔ اس کے بنیادی معاملات و مسائل پر غور و فکر کرتے ہیں۔ اس کی ان گنت گتھیوں کو سلجھا دیتے ہیں۔ انسان کو اس کی عظمت کا احساس دلاتے ہیں اس کو اپنے پیروں پر کھڑا ہونا سکھاتے ہیں ۔ اور نظام کائنات میں اس کونئے آسمانوں پر اڑاتے ہیں۔ غالب کی شاعری اس اعتبار سے بہت بلند ہے اور اس میں شبہ نہیں کہ ان کی شاعر ی کے انہیں عناصر نے اُن کو عظمت سے ہمکنار کیا ہے۔ لیکن جس طرح ان کی شاعری میں ان سب کا اظہار و ابلاغ ہوا ہے۔ وہ بھی اس کو عظیم بنانے میں برابر کے شریک ہیں۔

غالب کی شاعری کا اثرحواس پر شدت سے ہوتا ہے وہ ان میں غیر شعوری طور پرایک ارتعاش کی سی کیفیت پیدا کرتی ہے اور اسی ارتعاش کی وجہ سے اس کے پڑھنے اور سننے والے کے ذہن پر اس قسم کی تصویریں ابھرتی ہیں ۔ ان کے موضوع میں جووسعتیں اور گہرائیاں ہیں اس کا عکس ان کے اظہار و ابلاغ میں بھی نظرآتا ہے۔ ان گنت عناصر کے امتزاج سے اس کی تشکیل ہوتی ہے۔

حسن کے بارے میں غالب کے تصورات کا سراغ لگانے کے لئے اُن کے محبوب کی تصویر دیکھنا ہوگی اس لئے کہ ان کے محبوب کی ذات میں وہ تمام خصوصیات جمع ہوگئیں ہیں۔ایک طرف تو غالب نے روایتی تصوارت سے استفادہ کیا ہے۔ اور دوسری جانب بعض ایسی باتیں کہی ہیں جو قدیم تصورات سے مختلف ہیں۔ ان کے خیال میں حسن میں سادگی و پرکاری دونوں ہونے چاہئیں۔غالب کو دراز قد ، دراز زلف ، شوخ و شنگ، سادہ و پرکار، شان محبوبی کا مالک ، لمبی لمبی پلکوں والا۔ چاند چہرے کا مالک، ستارہ آنکھوں والا محبوب پسند ہے اور وہ اسی کے حسن کے قصیدے گاتے ہیں۔

سادگی و پرکاری ، بے خودی و ہشیاری
حسن کوتغافل میں جرا ت آزما پایا

اس نزاکت کا برا ہو وہ بھلے ہیں تو کیا
ہاتھ آئیں تو انہیں ہاتھ لگائے نہ بنے

جال جیسے کڑی کمان کا تیر
دل میں ایسے کے جاکرے کوئی

ڈاکٹر فرمان فتح پور ی لکھتے ہیں کہ، "غالب کے اقوال و بیانات کے سلسلے میں خصوصاً محتاط رہنے کی ضرورت ہے اس لئے کہ وہ بنوٹ باز شاعر ہیں قدم قدم پر پنتیر ے بدلتے ہیں اور اپنی خوداری اور انانیت کے باوصف مصلحت کو ہاتھ سے نہیں جانے دیتے ۔”

عبادت بریلوی لکھتے ہیں کہ
” غالب ایک بڑی رنگین ایک بڑی ہی پر کار اور پہلو دار شخصیت رکھتے تھے اور اس رنگینی ، پر کاری اور پہلو داری کی جھلک ان کی ایک ایک بات میں نظرآتی ہے۔“
بقول رشید احمد صدیقی، ”مجھ سے اگر پوچھا جائے کہ ہندوستان کو مغلیہ سلطنت نے کیا دیا ۔ تو میں بے تکلف یہ تین نا م لوں گا غالب اردو اور تاج محل۔“

بقول ڈاکٹر محمد حسن، ”دیوان ِ غالب کو ہم نئی نسل کی انجیل قرار دے سکتے ہیں۔“

بقول ڈاکٹر عبادت بریلوی، ”اردو میں پہلی بھرپور اور رنگارنگ شخصیت غالب کی ہے۔“ ایک اور جگہ لکھتے ہیں، ”غالب کی بڑائی اس میں ہے کہ انہوں نے متنوع موضوعات کو غزل کے سانچے میں ڈھالاہے۔“

غدر کے بعد مرزا کی سرکاری پنشن بھی بند ہو گئی ۔ چنانچہ انقلاب 1857ءکے بعد مرزا نے نواب یوسف علی خاں والی رامپور کو امداد کے لیے لکھا انہوں نے سو روپے ماہوار وظیفہ مقرر کر دیا جو مرزا کو تادم حیات ملتا رہا۔ کثرت شراب نوشی کی بدولت ان کی صحت بالکل تباہ ہو گئی مرنے سے پہلے بے ہوشی طاری رہی اور اسی حالت میں 15 فروری 1869ء کو انتقال فرمایا

فرصتِ کاروبارِ شوق کسے
ذوقِ نظارۂ جمال کہاں

دل تو دل وہ دماغ بھی نہ رہا
شورِ سودائے خطّ و خال کہاں

تھی وہ اک شخص کے تصّور سے
اب وہ رعنائیِ خیال کہاں

ایسا آساں نہیں لہو رونا
دل میں‌طاقت، جگر میں حال کہاں

ہم سے چھوٹا "قمار خانۂ عشق”
واں جو جاویں، گرہ میں مال کہاں

فکر دنیا میں سر کھپاتا ہوں
میں کہاں اور یہ وبال کہاں

مضمحل ہو گئے قویٰ غالب
وہ عناصر میں اعتدال کہاں

Advertisements

خواجہ میر درد

5079درد کا نام سید خواجہ میر اور درد تخلص تھا با پ کا نام خواجہ محمد ناصر تھا جو فارسی کے اچھے شاعر تھے اور عندلیب تخلص کرتے تھے۔خواجہ میر درد دہلی میں 1720ءمیں پیدا ہوئے اور ظاہری و باطنی کمالات اور جملہ علوم اپنے والد سے حاصل کیے ۔ درویشانہ تعلیم نے روحانیت کو جلا دی اور تصوف کے رنگ میں ڈوب گئے۔ آغاز جوانی میں سپاہی پیشہ تھے۔ پھر دنیا ترک کی اور والد صاحب کے انتقال کے بعد سجادہ نشین ہوئے ۔درد نے شاعری اور تصوف ورثہ میںپائے ۔ ذاتی تقدس ، خودداری ، ریاضت و عبادت کی وجہ سے امیر غریب بادشاہ فقیر سب ان کی عزت کرتے تھے

بقول مولانا محمد حسین آزاد
” تصوف میں جیسا انہوں نے لکھا اردو میں آج تک کسی سے نہ ہوا۔“
بقول امداد اثر
” معاملات تصوف میں ان سے بڑھ کر اردو مےں کوئی شاعر نہیں گزرا۔“
عبدالسلام ندوی،
” جس زمانے میں اردو شاعری اردوہوئی خواجہ مےر درد نے اس زبان کو سب سے پہلے صوفیانہ خیالات سے آشنا کیا۔“

تصوف کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ شعراءمحض منہ کا ذائقہ بدلنے کے لیے رسمی طور پر تصوف کے مضامین بھی نظم کر لیتے تھے۔لیکن چونکہ تصوف کا ان کی زندگی سے براہ راست تعلق نہیں ہوتا اس لیے ان اشعار میں گرمی نہ ہوتی اور نہ وہ متاثر کر سکتے ۔ مگر خواجہ میر درد کی شاعری میں تصوف رسمی مضمون بن کر نہیں رہ جاتا ۔ وہ خود با عمل صوفی تھے اور جو کچھ بیان کرتے تھے اس کا تعلق ان کی زندگی سے تھا اس لیے میر درد کی صوفیانہ شاعری کا آج تک کوئی اور شاعر مقابلہ نہیں کر سکا۔ اس میدان میں وہ منفرد اور ممتاز حیثیت کے مالک ہیں ۔ وہ تصوف کی تمام منازل سے عملی طور سے گزرے تھے اسی لیے ان کی صوفیانہ شاعری خلوص اور صداقت میں ڈوبی ہوئی ہے۔

جگ میں آکر ادھر ادھر دیکھا
تو ہی آیا نظر جدھر دیکھا

اہل فنا کو نام سے ہستی کے ننگ ہے
لوح مزار بھی میری چھاتی پہ سنگ ہے

درد صوفی ہونے کو باوجود زندگی سے بیزار نہیں تھے ۔ انہیں اس کے تمام پہلوئوں سے دلچسپی تھی ۔ اُن کے پاس انسانی زندگی کے جذباتی اور جسمانی نظام کی اہمیت کو سمجھنے کا گہرا شعور موجود تھا۔ تصوف کو وہ ایک نظام حیات سمجھتے تھے اور انہوں نے اس کو محض ایک فرار کے طور پر اختیار نہیں کیا تھا، یہی وجہ ہے کہ تصوف اُن کے یہاں زندگی کی نفی نہیں کرتا، اور اس سے بیزار ہونا اور منہ موڑنا نہیں سکھاتا۔ راہ سلوک میں پہلا مقام حیرت کا ہے۔ جب انسان خالق حقیقی کے کھوج میں نکلتا ہے ۔ تجسس بڑھتا ہے کچھ سمجھ نہیں آتا ۔ اس ابتدائی مرحلہ کا حال صوفی کے دل پرکیا واردات مسلط کرتا ہے۔ وہ درد کی زبانی سنیے ۔

دل کس کی چشم مست کا سرشار ہو گیا
کس کی نظر لگی جو یہ بیمار ہوگیا

حیران آئینہ دار ہیں ہم
کس سے یارب دو چار ہیں ہم

میر درد نے محض رسمی طور پر تصوف کو قبول نہیں کیا اگر وہ شاعر نہ ہوتے تو بھی باعمل صوفی ہوتے ان کے ہاں تمام علوم کا تعلق بنیادی طورپر تین موضوعات سے ہے۔ اور اسی سے تمام علوم جنم لیتے ہیں۔

١) خدا ٢) انسان ٣) کائنات

١ ) خدا کیا ہے ، کہاں ہے یعنی مابعدالطبیعات کے مسائل

٢ انسان کی حقیقت ، کائنات میں اس کا مقام ، خدا سے اس کا رشتہ

٣) کائنات اور انسان کا رشتہ ، کائنات اورخدا کا رشتہ ، یہ کائنات خدا کا عکس ہے ۔ تصوف کیبحث ان تین موضوعات میں مقید ہے۔

خدا کے تصور کے بعد تصوف کا دوسرا اہم مسئلہ انسان اور خدا کا تعلق ہے۔ انسان اور خدا میں چند صفات مشترک ہیں پھر یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیا انسان خدا کا شریک ہے۔ حقیقت میں انسان خدا کا شریک نہیں اس میں جو صفات ہیں وہ خدا کی بخشی ہوئی ہیں۔ وہ خدا کاعکس ہیں اس طرح انسان خدا کا شریک نہیں بلکہ اس کا محتاج ہے خدا نے اپنے اظہار کے لیے انسان کو تخلیق کیا ہے صوفیاءکا مقولہ ہے کہ ہمارا وجود حق تعالٰیٰ پر موقوف ہے اور اس کا ظہور ہمارے ذریعہ سے ہے۔

اس ہستی خراب سے کیا کام تھا ہمیں
اے نشہ ظہور یہ تیری ترنگ ہے

انسان اور کائنات میں خدا جلوہ دکھا رہا ہے گویا ساری کائنات آئینہ ہے۔ جس میں خدا کی ذات کا عکس پڑ رہا ہے۔ صوفیا کے نزدیک خدا تک پہنچنے کے لیے ہمیں اپنے دل کے آئینے کو صقیل کرنا چاہیے پھر اس میں خدا کا وجود نظرآئے گا۔گویا ہم یوں کہہ سکتے ہیں کہ درد کی شاعری بمصداق درد کے نام درد کے ہے

وحدت میں تیری حرف دوئی کا نہ آسکے
آئینہ کیا مجال تجھے منہ دکھا سکے

آپ سے ہم گزر گئے کب سے
کیا ہے ظاہر میں گو سفر نہ کیا

درد کے تصو ف کے بارے میں عبدالباری لکھتے ہیں،
” اکثر اشعار میں تصوف کے ایسے نازک مسائل اس طرح واضح کرکے بیان کئے ہیں کہ قال میں حال کا جلوہ نظرآتا ہے درد اور باقی شعراءکے کلام میں وہی فرق ہے جو اصل اور نقل میں ہوتا ہے۔“ بقول رام بابو سکسینہ،
”تصوف کو اُن سے بہتر کسی نے نہیں کہا۔ عرفان و تصوف کے پیچیدہ مسائل اور مشکل مضامین اس خوبصورتی اور صفائی سے بیان کئے ہیں کہ دل وجد کرتا ہے۔“

حسرت موہانی 1875-1951

ہجر میں پاس میر ے اور تو کیا رکھا ہے
اک تیرے درد کو پہلو میں چھپا رکھا ہے

downloadنام سید فضل الحسن تخلص حسرت ، قصبہ موہان ضلع انائو میں 1875ءپیداہوئے۔ آپ کے والد کا نام سید اظہر حسین تھا

 ۔ ابتدائی تعلیم گھر پر ہی حاصل کی ۔ 1903ء میں علی گڑھ سے بی۔اے کیا۔ شروع ہی سے شاعری کا ذوق تھا۔ اپنا کلام تسنیم لکھنوی کو دکھانے لگے۔ 1903ءمیں علی گڑھ سے ایک رسالہ ”اردوئے معلی“ جاری کیا۔ اسی دوران شعرائے متقدمین کے دیوانوں کا انتخاب کرنا شروع کیا۔ سودیشی تحریکوں میں بھی حصہ لیتے رہے چنانچہ علامہ شبلی نے ایک مرتبہ کہا تھا۔”تم آدمی ہو یا جن ، پہلے شاعر تھے پھر سیاستدان بنے اور اب بنئے ہو گئے ہو۔“

بقول ڈاکٹر سید عبداللہ،
” حسرت محبت کے خوشگوار ماحول کے بہترین ، مقبول ترین اور مہذب ترین مصور اور ترجمان تھے وہ خالص غزل کے شاعر تھے ان کے شعروں میں ہر اس شخص کے لئے اپیل ہے جو محبت کے جذبات سے متصف ہے۔“
بقول آل احمد سرور،
” عشق ہی ان کی عبادت ہے عشق کی راحت اور فراغت کا یہ تصور اُن کا اپنا ہے اور یہ تصور ہی حسرت کو نیا اور اپنے زمانہ کا ایک فرد ثابت کر سکتا ہے۔“
حسرت موہانی اردو غزل گوئی کی تاریخ میں ایک ممتاز حیثیت رکھتے ہیں۔ اردو شاعری کے ارتقاءمیں ان کی اہمیت بہت زیادہ ہے۔ ان کے خیال اور انداز بیان دونوں میں شخصی اور روایتی عناصر کی آمیزش ہے ۔ حسرت موہانی کو قدیم غزل گو اساتذہ سے بڑا ہی ذہنی و جذباتی لگائو تھا۔ اور یہ اسی لگائو کا نتیجہ تھا کہ کلاسیکل شاعروں کا انہوں نے بڑی دقت نظر سے مطالعہ کیا تھا ۔اور اپنی طبیعت کے مطابق ان کے مخصوص رنگوں کی تقلید بھی کی ۔ قدیم اساتذہ کے یہ مختلف رنگ حسرت کی شاعری میں منعکس دکھائی دیتے ہیں۔ اور خود حسرت کو اس تتبع کا اعتراف بھی ہے۔
حسرت کے اس رجحان پر فراق لکھتے ہیں کہ حسرت کے اشعار بیان حسن و عشق میں صاف مصحفی کی یاد دلاتے ہیں۔ معاملہ بندی اور ادا بندی میں جرات کی یاد دلاتے ہیں۔ اور داخلی اور نفسیاتی امور کی طرف اشارہ کرنے میں عموماً نئی فارسی ترکیبوں کے ذریعے مومن کی یاد دلاتے ہیں۔ لیکن حسرت کی شاعری محض مصحفی ،جرات ، اور مومن کی آواز کی بازگشت نہیں ہے۔ وہ ان تینوں کے انداز ِ بیان و وجدان اور ان کے فن شاعری کی انتہا و تکمیل ہیں۔
حسرت کی غزل میں ایک ذہنی گدگدی ، ایک داخلی چھیڑ چھاڑ ، ایک حسین چہل کی عکاسی نظر آتی ہے۔ حسرت کی شاعری کا میدان ان معنوں میں محدود ہے کہ وہ جذبات حسن و عشق ہی سے سروکار رکھتے ہیں۔ ان کاد ل ایک شاعر کا دل ہے اور ان کی شاعر ی کا محور محبت اور صرف محبت ہے۔

اسلوب احمد انصاری لکھتے ہیں کہ نمائندہ اور باقی رہنے والی شاعری از اوّل تا آخر عشقیہ شاعر ی ہے ۔ حسرت بڑی حساس طبیعت کے اور بڑا دردمند دل رکھتے ہیں۔ انھوں نے حسن کو چلتے چلتے ، سوتے جاگتے ، روٹھتے منتے، شعلہ بن کر بھڑکتے اور پھول بن کر رنگ و خوشبو لٹاتے دیکھا۔ یوں ان کی شاعری بھاگتی دھوپ کی شاعری نہیں، شباب کی شاعری ہے۔ جس میں پہلی نگاہیں اور اجنبیت کے مزے بھی ہیں۔ ”ننگے پاؤں کوٹھے پر آنے“ کا دور بھی ہے اور جوانی کے دوسرے تجربات بھی ہیں۔حسرت کے یہاں عاشقی کا مشرب، عاشقی کی نظر اور عاشقی کا ذہن یہ ساری کیفیتیں موجود ہیں۔

حسن بے پروا کو خو د بین و خودآرا کردیا
کیا کیا میں نے کہ اظہار تمنا کر دیا

آئینے میں وہ دیکھ رہے تھے بہار حسن
آیا میر ا خیال تو شرما کہ رہ گئے

ڈاکٹر سیدعبداللہ کا حسرت موہانی کے بارے میں کہنا ہے
”حسرت کی مقبولیت کا ایک بڑا سبب یہ ہے کہ انہوں نے غزل کے قدیم و جدید رنگ کو باہم اسی طرح ملا دیا کہ ان کی غزل سے ہر رنگ اور ہر ذوق کا قاری متاثر ہوتا ہے۔“

بقول عطا کاکوروی،
” حسرت کا اندازبیان اتنا اچھوتا اور والہانہ ہے اور اس میں ایسی شگفتگی و رعنائی ہے جو اپنی مثال آپ ہے۔“

بقول نیاز فتح پوری
” حسرت کی نغمہ بیخودی کو سن کر لوگ چونک اُٹھے روحیں وجد کرنے لگیں اور شعر و فن کی فضا چمک اٹھی وہ اپنے رنگ میں منفرد تھے اور ان کا کوئی ہمسر نہیں ۔

نہیں آتی تو یاد ا ن کی مہینوں تک نہیں آتی
مگر جب یاد آتے ہیں تو اکثر یاد آتے ہیں

چپکے چپکے رات دن آنسو بہانا یا دہے
ہم کو اب تک عاشقی کا وہ زمانہ یادہے

فانی بدایونی 1879-1941

شوکت علی فانی 1879ء میں بدایون میں پیدا ہوئے۔ فانی کے والد محمد شجاعت علی خان محکمہ پولیس میں انسپکٹر تھے۔ روش زمانہ کے مطابق پہلے عربی اور fani-badayuniفارسی کی تعلیم حاصل کی۔ اس کے بعد انگریزی پڑھی اور 1901ء میں بریلی سے بی اے کیا۔
کالج چھوڑنے کے بعد کچھ عرصہ پریشانی کے عالم میں گزارا۔ لیکن شعر و سخن کی دلچسپیاں ان کی تسلی کا ذریعہ بنی رہیں۔ 1908ء میں علی گڑھ سے ایل ایل بی کا امتحان پاس کیا۔ لیکن وکالت کے پیشے سے انہیں کوئی دلچسپی نہ تھی۔ صرف والد کے مجبور کرنے پر وکالت شروع کی اور کچھ عرصہ بریلی اور لکھنو میں پریکٹس کرتے رہے۔ لیکن قانون سے لگاؤ نہ ہونے کی وجہ سے بحیثیت وکیل کامیاب وکیل ثابت نہ ہوئے۔

فانی و ہ بلا کش ہوں غم بھی مجھے راحت ہے
میں نے غم ِ راحت کی صورت بھی نہ پہچانی

فانی یاسیت کے امام مانے جاتے ہیں۔ حزن و یاس اُن کے کلام کاجزو اعظم ہے۔ سوز و گداز جو غزل کی روح ہے اس کی جلوہ فرمائی یا تو میر کے یہاں ہے یا فانی کے یہاں۔ فرق صرف یہ ہے کہ میرکے غم میں ایک گھٹن سی محسوس ہوتی ہے۔ اور فانی کا غم لذت بخش ہے۔ میر کے یہاں نشاط ِ غم کا عنصر نمایاں ہے۔ فانی کو مرگھٹ کا شاعر یا قبرستان کا منجاور کہنا حد درجہ ناانصافی ہے۔ ہاں وہ موت کا شاعر ضرور تھا۔ مگر موت ہی اُس کے نزدیک سرچشمہ حیات بن گئی تھی۔ غم نے نشاط کا روپ اختیار کر لیا تھا۔ لذت ِ غم سے اُس کا سےنہ معمور نظر آتا ہے۔ یہ اُس کے فن کا کما ل ہے کہ انسان غم سے فرار نہیں چاہتا بلکہ غم میں ایک ابدی سکون اور سرور پاتا ہے۔ زندگی کی نامرادیوں میں وہ درد اور میر کے ہمنوا ہیں۔

میر: ع ہم نے مر مر کے زندگانی کی
درد ع ہم تو اس جینے کے ہاتھوں مر چلے
فانی ع زندگی نام ہے مرمر کے جیے جانے کا

بقول مجنوں گورکھپوری ،
” فانی کی شاعری کو ”موت“ کی انجیل کہا جائے تو بے جا نہ ہوگا۔“ بقول خواجہ احمد فاروقی،
”غم عشق اور غم روزگار نے مل کر دل کو آتش کدہ بنا دیا تھا یہی آگ کے شعلے زبان ِشعر سے نکلے ہیں اُن کی شاعر ی کا عنصر غالب غم و اندوہ ہے لیکن یہ غم روایت نہیں صداقت ہے۔“
فانی بدایونی نے 12 اگست 1941ءکو حیدر آباد میں وفات پائی۔ انتقال کے وقت اُن کی عمر 62 بر س تھی اگر اُ ن کی شاعر ی پر نظر ڈالی جائے تو ایسا معلوم ہوتا ہے کہ اُن کی موت بہت پہلے واقع ہو چکی تھی۔ یا واقع ہونا شروع ہو چکی تھی۔ اور یہ باسٹھ سال ایک مرگ مسلسل کی طرح گزرے ہر لمحے انہیں موت کا انتظار تھا۔

فانی کی زندگی بھی کیا زندگی تھی یا رب
موت اور زندگی میں کچھ فرق چاہیے تھا

فانی کا اصل نام شوکت علی خان تھا۔ شوکت تخلص ہو سکتا تھا۔ لیکن انہوں نے فانی تخلص رکھ کر اس خواہش کی تسکین کا سامان کیا۔ جب کبھی ہم کو دامن بہار سے عالم ِیاس میں بوئے کفن آتی ہے تو فانی کی یاد آتی ہے۔ کیونکہ انہوں نے موت ہی کو ”زندگی جانا تھا اور غم کو موضوع بنایا۔بقول آمدی،
فانی ایک زندہ جنازہ ہیں جن کو یاس و الم اپنے ماتمی کندھوں پر اُٹھائے ہوئے ہیں۔“
ڈاکٹر سلا م سندیلوی”اپنی کتاب”مزاج اور ماحول‘ ‘ میں فانی کی غم و یاسیت کے متعلق لکھتے ہیں،
” فانی زندگی بھر گلشن ہستی کو مغموم نگاہوں سے دیکھتے رہے او رنسترن کو کافور و کفن سمجھتے رہے۔ اُن کی شاعری کی تخلیق اشک شبنم اور خون ِحنا سے ہوئی ہے۔ وہ زندگی بھر آہیں بھر تے رہے۔ اور مرتے دم تک سسکیاں لیتے رہے۔ فانی کو محض غم و یاس کی بدولت رفعت و عظمت حاصل ہوئی ہے اسی وجہ سے اُن کو یاسیت کا امام کہاجاتاہے۔“

چمن سے رخصت فانی قریب ہے شائد
کچھ آج بوئے کفن دامن ِ بہار میں ہے

فانی غم ہی کو زندگی تصور کرتے تھے۔ اور فانی اس طرح زندگی گزارنے پر مجبو رتھے۔ جو اُن کی تمنائوں سے ہم آہنگ نہ تھی ان کی شخصیت چیختی تھی ، دماغ احتجاج کرتا تھا۔ دل بغاوت کرتا تھا۔ ہڈیاں چٹختی تھی لیکن زمانے کی گرفت ڈھیلی نہ ہوتی تھی۔ کون جانتا ہے کہ فانی کو اپنی حالات نے جبر کا قائل بنا دیا ہے۔ اسزندگی سے صرف موت ہی نجات دلا سکتی تھی۔

ہر نفس عمر گزشتہ کی ہے میت فانی
زندگی نام ہے مرمر کے جیے جانے کا

آج روز وصال ِ فانی ہے
موت سے ہو رہے ہیں راز و نیاز

جب دیکھیے جی رہا ہے فانی
اللہ رے اس کی سخت جانی

اور اس کے سےنکڑو ں اشعار زندگی کو موت میں تبدیل کر لینا زندگی کو موت سمجھنا ، مرنے سے پہلے مر جانا ۔ یہ سب اُس خواہش مرگ کے پہلو ہیں اس وجہ سے فانی کا غم گہرا اور فلسفیانہ ہے۔

فانی کی حیات کا مطالعہ اس امر کو ثابت کرتا ہے، کہ انہوں نے ساری عمر مصیبت میں گزاری۔ فانی نے دل سے جن لوگوں کو عزیز جانا تھا۔ وہ لوگ اُن کی آنکھوں کے سامنے مرتے چلے گئے۔ اس کے بعد د و سال کے اندر اندر والد اور والدہ کا انتقال ، دوستوں میں کشن پرشاد اور ان کی بیٹی اور اخر میں ان کی بیوی کا انتقال اُن پر کافی اثر انداز ہو۔ جو انسان اتنے سارے جنازوں کو دیکھ رہا ہو۔ اُن کے غم کا اندازہ لگانا مشکل ہے ایک خط میں لکھتے ہیں،
”اس دور میں اتنے جنازے اُٹھائے لگتا ہے کہ جب میں مرجائوں تو اُٹھانے والا کوئی نہیں ہوگا۔“
فانی نے جس دور میں آنکھ کھولی وہ فسادات کا دور تھا۔ جنگیں تھیں تو اس دور میں ایک مزاج تھا۔ جس نے ان کو غم برتنے پر مجبور کر دیا۔ تو اُن کی حسیات متاثر ہوئے بغیر نہیں رہ سکتی اور پھر سب سے بڑھ کر اُن کا اپنا مزاج تھا۔ جس نے ا ن کے غم برتنے پر مجبور کردےا۔ انہی حالات و واقعات نے غم کا برتنے پر مجبورکر دیا ۔ انہی حالات و واقعات نے غم کا ایک مکمل فلسفہ پیش کیا۔
غالب کے ہاں غم اور زندگی لازم و ملزوم ہیں میر کے ہاں غم ہی غم تھا لیکن فانی کے ہاں غم کے عناصر اتنے بڑھ گئے کہ لگتا ہے کہ فانی غم کو زندگی قرار دے رہے ہیں۔

میں غم نصیب وہ مجبور ِ شوق ہوں فانی
جو نامراد جیے اور امےدوار رہے

مختصر قصہ غم یہ ہے کہ دل رکھتا ہوں
راز کونین خلاصہ ہے اس افسانے کا

زیست کا حاصل بنایا دل جو گویا کچھ نہ تھا
غم نے دل کو دل بنا یا ورنہ کیاتھا کچھ نہ تھا

بقول فراق گورکھپوری،
” فانی نے غم ، اور قنوطیت کو نیا مزاج دیا ایک کلچر دیا، انہوں نے غم کو ایک نئی چمکار دی اُسے نرم اور لچک دار اُنگلیوں سے رچایا اور نکھارا اسے نئی لوریاں سنائیں اسے اپنی آواز کے ایک خاص لوچ سے سلایا، اور جگایا، زندگی کے اندر نئی روک تھام نئی تھر تھری پیدا کی۔ نئی چٹکیاں ، نئی گدگدی ، نئی لرزشیں ، نئی سرن اُن کے ہاتھوں سے غم کی دکھی ہوئی رگوں کو ملیں۔“ بقول عطا:
” میر کی روح نے غالب کے قالب میں دوبارہ جنم لے کر فانی نام پایا۔“
بقول جوش:
” جب ہم فانی کا کلام پڑھتے ہیں تو ایسا معلوم ہوتا ہے کہ آنسوئوں کی ندی کے ساحل پر سنگ موسیٰ کا ایک بڑا مندر ہے جس کے وسط میں غم کی دیوی کا ایک بت رکھا ہوا ہے۔ اور ایک سیاہ پوش برہمن ہے جو دھڑکتے ہوئے دل کی گھنٹی بجا بجا کر پوجا کر رہا ہے۔“

ہمیں ابھی تیرے اشعار یا د ہیں فانی
تیرا نشاں نہ رہا ، اور بے نشاں نہ ہوا

مجموعی طور سے فانی کی زندگی پریشانی میں گزری ۔ لیکن جس وقار اور فراخ دلی کے ساتھ انہوں نے مصائب کو برداشت کیا وہ انہی کا کام تھا۔ ان کی اس پریشان حالی سے متاثر ہو کر مہاراجہ حیدر آباد نے انہیں اپنے پاس بلا لیا اور اسٹیٹ سے تنخواہ مقرر کر دی۔ پھر وہ محکمہ تعلیم میں ملازم ہوئے اور ہیڈ ماسٹر مقرر ہوئے اسی اثناء میں رفیقہ حیات فوت ہوگئیں۔ 1933ء میں جواں سال بیٹی کا انتقال ہوگیا۔ جس سے فانی کےدل کو ٹھیس لگی۔ آخر کار ساری زندگی ناکامیوں اور مایوسیوں میں بسر کرکے 1941ء میں وفات پائی۔

داغ دہلوی 1831-1905

dagh-dehlvi

رخ روشن کی آگے شمع رکھ کے وہ یہ کہتے ہیں

ادھر جاتا ہے دیکھیں یا اِدھر پروانہ آتا ہے

پورا نام نواب مرزا خاں اور تخلص داغ تھا۔ 25مئی 1831ءکودہلی میں پیدا ہوئے ابھی چھ سال ہی کے تھے کہ ان کے والد نواب شمس الدین خاں کاانتقال ہو گیا۔ آپ کی والدہ نے بہادر شاہ ظفر کے بیٹے مرزا فخرو سے شادی کر لی۔ اس طرح داغ قلعہ معلی میں باریاب ہوئے ان کی پرورش وہیں ہوئی۔ بہادر شاہ ظفر اور مرزا فخرو دونوں ذوق کے شاگرد تھے ۔ لہٰذا داغ کو بھی ذوق سے فیض حاصل کرنے کا موقع ملا۔ داغ کی زبان بنانے اور سنوارنے میں ذوق کا یقینا بہت بڑا حصہ ہے۔
غدر کے بعد رام پور پہنچے جہاں نواب کلب علی خان نے داغ کی قدردانی فرمائی اور باقاعدہ ملازمت دے کر اپنی مصاحبت میں رکھا۔ داغ چوبیس سال تک رام پور میں قیام پذیر رہے۔ اس عرصے میں انہوں نے بڑے آرام و سکون اور عیش و عشرت میں وقت گزارا یہیں انہیں”حجاب“ سے محبت ہوئی اور اس کے عشق میں کلکتہ بھی گئے۔ مثنوی فریاد ِ عشق اس واقعہ عشق کی تفصیل ہے۔
نواب کلب علی خان کی وفات کے بعد حیدر آباد دکن کارخ کیا۔ نظام دکن کی استادی کا شرف حاصل ہوا۔ دبیر الدولہ ۔ فصیح الملک ، نواب ناظم جنگ بہادر کے خطاب ملے۔ 1905ءمیں فالج کی وجہ سے حیدر آباد میں وفات پائی ۔ داغ کو جتنے شاگرد میسر آئے اتنے کسی بھی شاعر کو نہ مل سکے۔ اس کے شاگردوں کا سلسلہ ہندوستان میں پھیلا ہوا تھا۔ اقبال، جگر مراد آبادی، سیماب اکبر آبادی اور احسن مارہروی جیسے معروف شاعر وں کو ان کی شاگردی کا شرف حاصل ہوا۔ ان کے جانشین نوح ناروی بھی ایک معروف شاعر ہیں۔

داغ دہلوی چاندنی چوک دہلی میں پیدا ھوئے _ اُٰنکے والد کو ولیم فیسر کے قتل کے الزام میں سزائے موت دی گئی۔ اُس وقت داغ کی عمر۴ برس کی تھی۔ اُن کی والدہ نے مرزا فخرو سے دوسرا نکاح کر لیا تھا اسی لئے اُن کی پرورش لال قلعے میں ہوئ اور وہیں اُن کی تعلیم و تربیت ہوئ۔

بقو ل غالب
” داغ کی اردو اتنی عمدہ ہے کہ کسی کی کیا ہوگی!ذوق نے اردو کواپنی گو دمیں پالا تھا۔ داغ اس کو نہ صرف پال رہا ہے بلکہ اس کو تعلیم بھی دے رہا ہے۔“
بقول نفیس سندیلوی، ” داغ فطر ی شاعر تھے وہ غزل کے لئے پیدا ہوئے اور غز ل اُن کے لئے ان کی زبان غزل کی جان ہے۔“
اردو شاعری میں زبان اور اس کی مزاج شناسی کی روایت کا آغاز سودا سے ہوتا ہے۔ یہ روایت ذوق کے توسط سے داغ تک پہنچی داغ نے اس روایت کو اتنا آگے بڑھایا کہ انہیں اپنے استاد ذوق اور پیش رو سودا دونوں پر فوقیت حاصل ہوگئی ۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ جب داغ نے ہوش سنبھالا تو لال قلعے میں بہادر شاہ ظفر ، استاد ذوق اور ان کے شاگرد زبان کو خراد پر چڑھا کر اس کے حسن کو نکھار رہے تھے۔ اور بہادر شاہ ظفر کے ہاتھوں اردو کو پہلی بار وہ اردو پن نصیب ہورہا تھا۔ جسے بعد میں داغ کے ہاتھوں انتہائی عروج حاصل ہوا۔
داغ کے زمانے میں زبان کی دو سطحیں تھیں ایک علمی اور دوسری عوامی غالب علمی زبان کے نمائندے تھے۔ اور ان کی شاعری خواص تک محدود تھی۔ اسکے برعکس داغ کی شاعری عوامی تھی وہ عوام سے گفتگو کرتے تھے۔ لیکن ان کے اشعار خواص بھی پسند کرتے تھے۔ کیونکہ ان کے اشعارمعاملات عشق کے تھے اور اُن موضوعات میں عوام و خواص دونوں کی دلچسپی زیاد ہ ہوتی ہے۔بقول عطا ” محبت کی گھاتیں اور حسن و عشق کی ادائیں داغ کے کلام کا طرہ امتیاز ہیں وہ عملی عاشق تھا اس کے اشعار اس کی عشقیہ وارداتوں کی ڈائری کے رنگین اور مصور اوراق ہیں۔“

اس میں کوئی شک نہیں کہ داغ اردو زبان کے بادشاہ ہیں۔ ان کی کلام میں زبان کا چٹخارہ ، سلاست ، صفائی ، سحرآفرینی ، رنگینی ، شوخی چلبلاہٹ بلا کی پائی جاتی ہے۔ اردو زبان کو داغ کے ہاتھو ں انتہائی عروج حاصل ہوا۔

تھے کہاں رات کو آئینہ تو لے کر دیکھو
اور ہوتی ہے خطاوار کی صورت کیسی

نہ ہمت ، نہ قسمت ، نہ دل ہے ، نہ آنکھیں
نہ ڈھونڈا، نہ پایا، نہ سمجھا ، نہ دیکھا

سادگی، بانکپن ، اغماض ، شرارت ، شوخی
تو نے انداز وہ پائے ہیں کہ جی جانتا ہے

داغ کی سب سے بڑی خوبی ان کی زبان کا حسن ہے ۔ انہوں نے شاعری کو پیچیدہ ترکیبوں ، فارسی اور عربی کے غیر مانوس الفاظ سے بچانے کی کوشش کی اور سیدھی سادھی زبان میں واقعات اور محسوسات کو بیان کیا۔ اس وجہ سے ان کا کلام تصنع اور تکلف سے خالی ہے۔

اردو ہے جس کا نام ہمیں جانتے ہیں داغ
سارے جہاں میں دھوم ہماری زبان کی ہے

کہتے ہیں اسے زبان اردو
جس میں نہ ہو رنگ فارسی کا

نہیں کھیل اے داغ یاروں سے کہہ دو
کہ آتی ہے اردو زبان آتے آتے

داغ صرف زبان کا شاعر ہی نہیں بلکہ اُنکی شاعری میں صداقت اور خلوص کا جذبہ بھی کارفرما نظرآتا ہے۔ اُن کے کلام میں حد سے زیادہ دلکشی ، خلوص اور صداقت واضح طور پر نظرآتاہے۔ مثلاً

جو گزرے ہیں داغ پر صدمے
آپ بندہ نواز کیاجانیں

تم کو چاہا تو خطا کیا ہے بتادو مجھ کو
دوسرا کوئی تو اپنا سا دکھا دو مجھ کو

داغ نہ فلسفی تھے اور نہ کوئی بڑا نظریہ حیات رکھتے تھے و ہ صرف شاعر تھے اور وہ بھی جذبات اور شوخی کے شاعر اُس نے اپنی شاعری میں جذبات کا بھر پور اظہار کیا ہے۔ مثلاً

بہت جلائے گا حوروں کو داغ بہشت میں
بغل میں اُس کے وہاں ہند کی پری ہوگی

داغ کی غزلوں کی پسندیدگی میں اس کے ترنم اور موسیقیت کو اہمیت حاصل ہے۔ غزلوں کے ردیف اور قافیے کی تلاش میں ان کو کمال کا عبور حاصل ہے۔ اُن کی بحریں اور زمینیں نہایت باغ و بہار ہیں اُن کے ہاں الفاظ کا استعمال نہایت برمحل اور برجستہ ہے۔
داغ غیر ضروری الفاظ سے پرہیز کرتے ہیں بیان کی شوخی ،بے تکلفی ، طنز ، جذبے کی فروانی اور تجربہ و مشاہدہ کی کثرت سے ان کی غزلیں بھر پور ہیں۔مثلاً

ابھی ہماری محبت کسی کو کیا معلوم
کسی کے دل کی حقیقت کسی کو کیا معلوم

بظاہر اُن کو حیادار لوگ سمجھیں گے
حیا میں ہے جو شرارت کسی کو کیا معلوم

تمہارے خط میں نیا اک سلام کس کا تھا
نہ تھا رقیب تو آخر وہ نام کس کا تھا

وفا کریں گے نبھائیں گے بات مانیں گے
تمہیں بھی یا د ہے کچھ یہ کلام کس کاتھا

داغ کے مصرعے جو محاورات بن کر اشعار کے قالب میں ڈھل کر ضرب الامثال بن گئے اور زبان زد خاص و عام ہو گئے ہیں۔

١)ہرروز کی جھک جھک سے مرا ناک میں دم ہے
٢)حضرت داغ جہاں بیٹھ گئے بیٹھ گئے
٣)تو نہیں اور سہی اور نہیں اور سہی
٤)آپکے سر کی قسم داغ کو پرواہ بھی نہیں
٥)ہائے کمبخت تو نے پی ہی نہیں
٦) بہت دیر کی مہرباں آتے آتے ٧)جہاں بجتے ہیں نقارے وہاں ماتم بھی ہوتے ہیں
٨) ذکر حبیب کم نہیں وصل حبیب سے

داغ کی شاعر ی کے متعلق فراق فرماتے ہیں” اردو شاعری نے داغ کے برابر کا فقرہ باز آج تک پیدا کیا ہے اور نہ آئندہ پیدا کر سکے گی۔“
بقول رام بابو سکسینہ :
” ان کی زبان کے ساتھ اس خدمت کی ضرور قدر کرنی چاہیے کہ انہوں نے سخت اور معلق الفاظ ترک کئے اور سیدھے الفاظ استعمال کئے ۔ جس سے کلام میں بے ساختگی اور فصاحت مزید بڑھ گئی ہے۔“ بقول خلیل الرحمن عظمی
”داغ کے طرز بیان میں جو صفائی اور فصاحت ، جو چستی ، جو نکھار ، جو البیلا پن اور جو فنی رچائو ملتا ہے وہ بہت کم غزل گویوں کے حصے میں آیا ہے۔داغ کا فن اُن کی شخصیت کی ایک تصویر ہے اس لئے اس میں بڑی جان ہے۔“

غضب کیا تیرے وعدے پہ اعتبار کیا
تمام رات قیامت کاانتظار کیا

تمہارے خط میں نیا اک پیام کس کاتھا
نہ تھا رقیب تو آخر وہ نام کس کاتھا

مير تقی میر 1724-1810

آپ كے متعلق اردو كے عظیم الشان شاعرمرزا غالب نے لکھا ہے ـ
ریختے كےتمہی استاد نہیں ہو غالب ـ
Mir_Taqi_Mir_1786کہتے ہیں اگلے زمانے ميں كوئى مير بھی تھاـ

مير تقّى مير ـ اردو كے عظیم شاعر تھے. اردو شاعرى ميں مير تقى مير كا مقام بہت اونچا ہے ـ انہیں ناقدین و شعرائے متاخرین نے خدائے سخن کے خطاب
سےنوازا۔ وہ اپنے زمانے كے ايكـ منفرد شاعر تھے ـ

آگر ہ میں 1723ءمیں پیدا ہوئے ۔ ان کے والد کا نام محمد علی تھا لیکن علی متقی کے نام سے مشہور تھے۔ اور درویش گوشہ نشین تھے۔ میر نے ابتدائی تعلیم والد کے دوست سید امان للہ سے حاصل کی۔ میر ابھی نو برس کے تھے کہ وہ چل بسے ان کے بعد ان کے والد نے تعلیم و تربیت شروع کی۔ مگر چند ہی ماہ بعد ان کا بھی انتقال ہو گیا۔ یہاں سے میر کی زندگی میں رنج و الم کے طویل باب کی ابتداءہوئی۔
ان کے سوتیلے بھائی محمد حسن نے اچھا سلوک نہ کیا۔ تلاش معاش کی فکر میں دہلی پہنچے اور ایک نواب کے ہاں ملازم ہو گئے ۔ مگر جب نواب موصوف ایک جنگ میں مارے گئے تو میر آگرہ لوٹ آئے۔ لیکن گزر اوقات کی کوئی صورت نہ بن سکی۔ چنانچہ دوبارہ دہلی روانہ ہوئے اور اپنے خالو سراج الدین آرزو کے ہاں قیام پذیر ہوئے ۔ سوتیلے بھائی کے اکسانے پر خان آرزو نے بھی پریشان کرنا شروع کر دیا۔ کچھ غم دوراں کچھ غم جاناں ،سے جنوں کی کیفیت پیدا ہو گئی۔

زندگی کے بارے میں معلومات کا اہم ذریعہ ان کی سوانح عمری کا ذ کر – اے – میر، جو ان کے بچپن سے لکھنؤ میں ان کے قیام کے آغاز کی مدت پر محیط ہے.میر نےاپنی زندگی کے چند لمحے مغل دہلی میں صر ف کتے.اس وقت وہ پرانی دہلی میں جس جگہ رهتے تھے اسے Kuchha Chelan،کھا جاتا تھا.

انہوں نے اپنے درد کو چند اشعار میں بیان کیا ہیں.

؎ کیا بود و باش پوچھے ہو پورب کے ساکنو

ہم کو غریب جان کے ہنس ہنس پکار کے

دلّی جو ایک شہر تھا عالم میں انتخاب

رہتے تھے منتخب ہی جہاں روزگار کے

جس کو فلک نے لوٹ کے ویران کر دیا

ہم رہنے والے ہیں اسی اجڑے دیار کے

میر کے بارے میں چند اشعار

سودا تو اس زمین میں غزل در غزل لکھ
ہونا ہے تم کو میر سے استا د کی طرح (سودا)

غالب اپنا یہ عقیدہ ہے بقول ناسخ
آپ بے بہرہ ہے جو معتقد میر نہیں(غالب)

نہ ہوا پر نہ ہوا میر کا انداز نصیب
ذوق یاروں نے بہت زور غزل میں مارا(ذوق)

شعر میرے بھی ہیں پردرد و لیکن حسرت
میر کا شیوہ گفتار کہاں سے لائوں(حسرت)

اللہ کرے میر کا جنت میں مکاں ہو
مرحوم نے ہر بات ہماری ہی بیاں کی(ابنِ انشا)

معتقد ہیں اگرچہ غالب کے۔ میر کو بھی سلام کرتے ہیں (حزیں جی)

بقول عبدالحق،
” اُن کا ہر شعر ایک آنسو ہے اور ہر مصرع خون کی ایک بوند ہے۔“ ایک اور جگہ عبدالحق لکھتے ہیں،
” انہوں نے سوز کے ساتھ جو نغمہ چھیڑا ہے اس کی مثال دنیائے اردو میں نہیں ملتی۔“
ہر شاعر اپنے ماحول کی پیداوار ہوتا ہے۔ اس کے اردگرد رونما ہونے والے واقعات ، حادثات ،اس کی ذاتی زندگی میں پیش آنے والے تجربات اور اس سلسلے میں اس کے تاثرات ہی دراصل اس کی شاعری اور فن کے رخ کا تعین کرنے میں معاون ثابت ہوتے ہیں ۔ ماحول اور معاشرے کی تبدیلیوں کے ساتھ ساتھ لاشعوری طور پر شاعر اپنی فکر کا رخ موڑتا چلا جاتا ہے اور یوں اس کی شاعری وقت کی رفتار کے ساتھ بدلتی رہتی ہے۔

مير تقی میر ایک ایسے عہد میں پیدا ہوئے جو سیاسی ، سماجی ، ملکی اور معاشی اعتبار سے سخت انتشار اور افراتفری کا دور تھا۔ مغل مرکز کمزور پڑ چکا تھا۔ ہندوستان کے بہت سے صوبے خود مختار ہو چکے تھے پورا ملک لوٹ ما ر کا شکار تھا۔ بیرونی حملہ آور آئے دن حملے کرتے تھے او ر عوام و خواص کو تباہ و برباد کرکے رکھ دیتے ۔ لوگ بھوکے مرنے لگے اور دولت لٹنے سے اقتصادی بدحالی کا دور شروع ہوا۔

میر اپنے اس دور کے احساس زوال اور انسانی الم کے مظہر ہیں۔ ان کی شاعری اس تما م شکست و ریخت کے خلاف ایک غیر منظم احتجاج ہے۔میر کے تصور غم کے بارے میں ڈاکٹر سید عبداللہ فرماتے ہیں کہ، ” میر کا سب سے بڑا مضمون شاعری ان کا غم ہے۔ غم و الم میر کے مضامین شاعری سب سے زیادہ اہمیت حاصل ہے۔ یہ غم میر کا ذاتی غم بھی تھا اور یہی انسان کی ازلی اور ابدی تقدیر کا غم بھی تھا ۔ یہ سارے غم میر کی شاعری میں جمع ہوگئے ہیں۔“

میر کا تصور غم تخیلی اور فکری ہے۔ یہ قنوطیت پیدا نہیں کرتا ۔ اس کے ہوتے ہوئے میر کی شاعری میں توازن اور ٹھہرائو نظر آتا ہے۔ شکستگی کا احساس نہیں ہوتا اور ضبط ، سنجیدگی اور تحمل ملتا ہے۔ وہ غم سے سرشار ہو کر اسے سرور اور نشاط بنا دیتے ہیں۔ مجنوں گورکھپوری ان کے تصورات غم سے بحث کرتے ہوئے لکھتے ہیں۔
” میر نے غم عشق اور اس کے ساتھ غم زندگی کو ہمارے لیے راحت بنا دیا ہے۔ وہ درد کو ایک سرور اور الم کو ایک نشاط بنا دیتے ہیں۔ میر کے کلام کے مطالعہ سے ہمارے جذبات و خیالات اور ہمارے احساسات و نظریات میں وہ ضبط اور سنجیدگی پیدا ہوتی ہے۔ جس کو صحیح معنوں میں تحمل کہتے ہیں۔

ہر صبح غموں میں شام کی ہے میں
خونبابہ کشی مدام کی ہے میں نے

یہ مہلت کم کہ جس کو کہتے ہیں عمر
مر مر کے غرض تمام کی ہے میں نے

بقول ڈاکٹر سید عبداللہ:

” میر کو زندگی سے بیزار شاعر نہیں کہا جاسکتا ۔ ان کا غم بعد میں آنے والے شاعر ، فانی کے غم سے مختلف ہے جس کی تان ہمیشہ موت پرٹوٹتی ہے۔ ان کا غم سودا سے بھی مختلف ہے۔ ان کا غم ایک مہذب اوردرمند آدمی کا غم ہو جو زندگی کے تضاد کو گہرے طور سے محسوس کرتا ہے کہ ایسی دلکش جگہ اور اتنی بے بنیاد اور محروم۔“

غم و الم کے اس عالم میں میر بے حوصلہ نہیں ہوتے ۔ وہ سپاہیانہ دم خم رکھتے ہیں۔ فوجی سازو سامان کے استعاروں میں مطلب ادا کرکے زندگی کا ایسا احساس دلاتے ہیں جس میں بزدلی بہرحال عیب ہے۔ وہ رویہ جسے اہل تذکرہ بے دماغی یا بد دماغی کہتے ہیں وہ دراصل وہ احتجاجی روش ہے جو ہر سپاہی کا شیوہ ہے۔

خوش رہا جب تلک رہا جیتا
میر معلوم ہے قلندر تھا

بہت آرزو تھی گلی کی تیری
سو یاں سے لہو میں نہا کر چلے

حوصلہ شرط عشق ہے ورنہ
بات کا کس کو ڈھب نہیں آتا

بقول ڈاکٹر غلام حسن:
” شاعروں نے دل کے استعارے میں اس عہد کے سیاسی اور سماجی احوال کو سمو کر بڑے بلیغ کنائے سے کام لیا ہے۔ جس طرح انسانی جسم کی ساری نقل و حرکت کا مرکزو محور دل ہوتا ہے۔ اسی طرح ایک سلطنت کا مرکز و محور اس کا دارالحکومت ہوتا ہے۔ زیر نظر دور میں ہندوستان کا مرکز سلطنت شہر دلی تھا ۔ دلی جو صدیوں سے اس ملک کے دل کی حیثیت اختیار کر چکاتھا۔۔۔۔دلی کی تباہی کو شاعروں نے کنایتاً دل کی ویرانی و بربادی سے تشبیہ دے کر سارے جسم یعنی کل ملک کی تباہی کی داستان بیان کی ہے۔“ میر نے دوسرے شعراءکی طرح یہ تمام خونی واقعات اپنی آنکھوں سے دیکھے۔ میر کی شاعری پر خون کے یہ دھبے آج تک نمایاں ہیں۔

دلی کے نہ تھے کوچے اوراق مصور تھے
جو شکل نظر آئی تصویر نظرآئی

خاک بھی سر پر ڈالنے کو نہیں
کس خرابے میں ہم ہوئے آباد

دلی میں آج بھیک بھی ملتی نہیں انہیں
تھا کل تلک دماغ جنہیں تاج و تخت کا

میر کا طنز ان کی طبیعت کا آئینہ ہے ۔ جب کوئی بات طنز کے ساتھ کہتے ہیں تو اس سے محض بے تکلفی نہیں ٹپکتی بلکہ ایسا معلوم ہوتا ہے کہ وہ اس عالم یا اس تجربہ سے گزر چکے ہیں۔ ان کا طنز اس شدید اور عمیق تعلق کا نتیجہ ہے جو بے تکلفی کے بعد ہی پیدا ہوتا ہے اور پھر عمر بھر قائم رہتا ہے۔ ان کے طنز میں ایک مدہم سی تلخی ہوتی ہے جو پختہ مغزی کی علامت ہوتی ہے۔ ان کے طنز میں غالب کی تیزی کی جگہ ایک عجب پرکیف نرمی ہوتی ہے۔

ہوگا کسو دیوار کے سائے تلے میں میر
کیا کام محبت سے اس آرام طلب کو

عشق کرتے ہیں اس پری رو سے
میر صاحب بھی کیا دوانے ہیں

حال بد گفتنی نہیں میرا
تم نے پوچھا تو مہربانی ہے

مولوی عبدالحق فرماتے ہیں کہ
” میر تقی میر سرتاج شعرائے اردو ہیں ان کا کلام اسی ذوق و شوق سے پڑھا جائے گا جیسے سعدی کا کلام فارسی میں، اگر دنیا کے ایسے شاعروں کی ایک فہرست تیار کی جائے جن کا نام ہمیشہ زندہ رہے گا تو میر کا نام اس فہرست میںضرور داخل ہوگا۔“
بقول رشیداحمد صدیقی، ” غزل شاعری کی آبرو ہے اور میر غزل کے بادشاہ ہیں۔“
ایک اور جگہ لکھتے ہیں،
”میر کی بات دل سے نکلتی ہے اور سامع کے دل میں جگہ کر لیتی ہے۔“

اک بات کہیں گے انشاءتمہیں ریختہ کہتے عمر ہوئی
تم لاکھ جہان کا علم پڑھے کوئی میرسا شعر کہا تم نے

فقیرانہ آ‘ے صدا کر چلے میاں خوش رہو ہم دعا کر چلے

پرستش کی یاں تک ٰکہ یے بت تجھے

سبھی  کی  نظر  میں   خدا  کر چلے

جبیں سجدہ کرتے ہی کرتے گٰٰٰئ حقٰٰ بندگی ہم اد ا کر چلے

کہیں کیا جو پوچھے کوئ ہم سے میر جہاں میں تم آے تھے کیا کر چلے‘

میر کا زمانہ شورشوں اور فتنہ و فساد کا زمانہ تھا۔ ہر طرف صعوبتوں کو برداشت کرنے کے بالآخر میر گوشہ عافیت کی تلاش میں لکھنؤ روانہ ہو گئے۔ اور سفر کی صعوبتوں کو برداشت کرنے کے بعد لکھنو پہنچے ۔ وہاں ان کی شاعری کی دھوم مچ گئی۔ نواب آصف الدولہ نے تین سو روپے ماہوار وظیفہ مقرر کر دیا۔ اور میر آرام سے زندگی بسر کرنے لگے۔ لیکن تند مزاجی کی وجہ سے کسی بات پر ناراض ہو کر دربار سے الگ ہو گئے۔ آخری تین سالوں میں جوان بیٹی او ر بیوی کے انتقال نے صدمات میں اور اضافہ کر دیا۔ آخر اقلیم سخن کا یہ حرماں نصیب شہنشاہ 1810ءمیں لکھنو کی آغوش میں ہمیشہ کے لیے سو گیا۔

جوتجھ بن نہ جینے کوکہتے تھے ہم

سو اس عہد کو ہم وفا کر چلے

محمد قلی قطب شاہ 1580-1611

اردو کے سب سے پہلے صاحب دیوان شاعر جو سلطنت قطب شاہی کے پانچویں سلطان بھی تھے۔

Muhammad_Quli_Qutb_Shah_portrait

اس وقت گوالکنڈہ ان کادارالسلطنت تھا لیکن انھوں نے حیدر آباد کیتیر سے دارالسلطنت کی منتقلی کو وہاں کے لیے مختص کیا۔کہا جاتا ہے وہ ایک فارس شہر اصفہان سے متاثر تھے اور حیدر آباد کی تعمیر میں اس بات کا ثبوت بھی ملتا ہے۔ وہ ابراہیم قلی قطب شاہ کے فرزند ارجمند تھے۔ پہلے اس حوالے سے لکھا دیا گیا ہے جو ان کے ساتھ ایک اہم خصوصیت جڑی ہے کہ ان سے پہلے راجدھانی گوالکنڈہ میں تھی اور انھوں نے اس کے حیدر آباد کی تعمیر سے دوسری جگہ منتقل کیا۔ حیدر آباد کو حیدر آباد کا نام حضرت علی رضی اللہ عنہ کی نسبت سے رکھا گیا۔

ان کے حوالے سے کہا جاتا ہے کہ وہ رومان پسند تھے اور اس کے ساتھ ساتھ تعمیرات کا بہت اشتیاق رکھتے تھے۔ اسی اشتیاق کے پیش نظر چار مینار کی تعمیر کو دیکھا جا سکتا ہے۔

اگر ان کی ادبی سنگت کو دیکھا جائے تو بآسانی اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ وہ ایک وقت میں کئی شوق رکھتے تھے اور کئی ایک زبانیں بھی جانتے تھے۔ عربی ، فارسی ، اردو اور تیلگو زبانوں کے خاص کر ماہر تھے ان سب زبانوں پر مکمل اختیار رکھتے تھے۔ لیکن اگر ان کی شاعری کی بات کی جائے تو یہ سامنے آتا ہے کہ انھوں نے فارسی اور اردو زبانوں میں شعر کہے۔ اور یہیں پر یہ بات تو بھی پتہ چلتی ہے کہ وہ اردو زبان کے سب سے پہلے اپنی کلیات کو شائع کرانے والے شاعر تھے۔

نمونہ کلام کے لیے سلطان محمد قلی قطبؔ شاہ کی غزل دکنی اردو میں

سب اختیار میرا تج ہات ہے پیارا

جس حال سوں رکھے گا ہے او خوشی ہمارا

نیناں انجھوں سوں دھوئوں پگ اپ پلک سوں جھاڑوں

جے کوئی خبر سولیاوے مکھ پھولوں کا تمہارا

بتخانہ نین تیرے ہو ربت نین کیا پتلیاں

مجھ نین ہیں پوجاری پوجا ادھان ہمارا

اس پتلیاں کی صورت کئی خواب میں جو دیکھے

رشک آئے مجھ، کرے مت کوئی سجدہ اس دوارا

تُج عاشقاں میں ہوتا جنگ و جدل سو سب دن

ہے شرعِ احمدی تُج انصاف کر خدارا

تُج خیال کی ہوس تھے ہے جیو ہمن سو زندہ

او خیال کد نجاوے ہم سرتھے ٹک بہارا

جب توں لکھیا قطبؔ شہ مہر محمدؐ اپ دل

ہے شش جہت میں تجھ کو حیدر کہ توا دہارا

Previous Older Entries